یہ ایک ایسے درزی کی کہانی ہے جو کوٹ اور پتلون سینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ شہر کے بڑے بڑے رئیس اس کے ہاتھ کے کمال کے دلدادہ تھے۔ انہی گاہکوں میں ایک کنجوس رئیس بھی شامل تھا، جو ہمیشہ کوٹ سلواتا مگر پیسے دیتے وقت سو بہانے بناتا۔ درزی اس کے روّیے سے بے حد تنگ تھا، مگر اپنی شرافت اور پیشہ ورانہ اصولوں کے تحت خاموش رہتا۔
ایک دن درزی کو کسی ضروری کام کے لیے دوسرے شہر جانا پڑ گیا۔ اس دوران رئیس کا کوٹ سلنے کے لیے آیا۔ یہ کوٹ نہایت قیمتی، نفیس اور مخمل کے کپڑے کا بنا تھا۔ درزی نے کپڑا اپنے بیٹے کے حوالے کیا اور سفر پر نکل گیا۔ بیٹے نے کوٹ سی تو دیا، مگر بٹن دوسرے رنگ کے دھاگے سے ٹانک دیے۔
جب درزی واپس آیا اور کوٹ پر نظر پڑی تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے جوتا اٹھایا اور بھرے بازار میں بیٹے کی پٹائی شروع کر دی۔ بیٹا روتے ہوئے کہنے لگا:
> "ابا! آپ مجھے اس آدمی کے لیے مار رہے ہیں جو ہمیں کبھی پورے پیسے نہیں دیتا؟"
درزی نے غصے میں بیٹے کی پشت پر ایک اور جوتا رسید کیا اور کہا:
"نادان! مجھے اس کپڑے کے مالک سے کوئی سروکار نہیں، میرا غصہ اس قیمتی اور حسین کپڑے پر ہے جس پر تم نے رحم نہیں کیا۔"
یہ واقعہ مشہور صحافی دیوان سنگھ مفتون نے اپنے جریدے **"ریاست"** میں لکھا اور کہا:
> "میں نے اس درزی کی بات ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں بٹھا لی۔ میں نے زندگی میں کبھی معاوضے کے لالچ میں کام نہیں کیا، میں نے ہمیشہ کام کو محض کام سمجھ کر کیا اور یہی میرا کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔"
---
### پروفیشنل ازم کی زندہ مثال
اصل پیشہ ور وہ ہے جو اپنے فن کو:
- تنخواہ
- ماحول
- یا مالک کے رویے سے
الگ رکھ کر کرتا ہے۔ جب تک آپ اپنے کام کو خالص نیت سے، دل سے اور ذمہ داری سے نہیں کریں گے، تب تک نہ آپ پروفیشنل بن سکتے ہیں اور نہ ہی کامیاب۔
---
- کامیابی کا اصل راز
- اپنے فن اور ٹیلنٹ کو پہچانیں
- کام کو عبادت سمجھ کر کریں
- اور نفع یا تعریف کی پرواہ چھوڑ دیں
اصل خوشی اور روحانی سکون تب ملتا ہے جب انسان اپنے کام میں محض محبت اور خلوص ڈال دے، چاہے اس کے بدلے میں دنیا کچھ دے یا نہ دے۔
ہمارے مزید بلاگز پڑھنے کے لیے وزٹ کریں:
[WhatsApp چینل جوائن کریں](https://whatsapp.com/channel/0029Va988m5HrDZoh7Rr012J)
یا
www.peerzada.store