اگر آپ اپنے موبائل فون میں سم لاک استعمال نہیں کر رہے تو سمجھ لیں کہ آپ خود کو ایک غیر ضروری اور خطرناک رسک میں ڈال رہے ہیں اور وہ بھی صرف غفلت کی وجہ سے۔ حیرت کی بات ہے کہ بارہا وارننگز، آگاہی مہمات، اور تلخ تجربات کے باوجود بھی کچھ لوگ یہ آسان سا حفاظتی قدم نہیں اٹھاتے۔
جب موبائل فون چوری ہوتا ہے تو صرف فون کا لاک ہونا کافی نہیں ہوتا۔ چور سب سے پہلے سم نکالتے ہیں اور اسے کسی دوسرے موبائل میں لگا لیتے ہیں۔ پھر وہ آپ کے نمبر سے آپ کے قریبی لوگوں کو میسج یا کال کر کے دھوکہ دے سکتے ہیں، خود کو آپ ظاہر کر کے ایمرجنسی پیسے منگوا سکتے ہیں۔
اصل خطرہ تب شروع ہوتا ہے جب چور آپ کی سم سے USSD کوڈز استعمال کرتا ہے۔ پاکستان میں USSD کوڈز جیسے کہ *786#، *777# وغیرہ کا استعمال ایزی پیسہ، جاز کیش، یو پیسہ اور دیگر موبائل بینکنگ سروسز کے لیے ہوتا ہے۔ اگر آپ کے موبائل نمبر سے یہ والٹس منسلک ہیں، اور آپ نے مضبوط پِن کوڈ نہیں لگایا ہوا، تو چور چند سیکنڈز میں آپ کا پورا بیلنس نکال سکتا ہے نہ ایپ کی ضرورت، نہ انٹرنیٹ کی۔
اگر آپ نے سم لاک ایکٹیویٹ کیا ہو تو جیسے ہی چور سم کو کسی اور موبائل میں ڈالے گا یا فون ری اسٹارٹ کرے گا، سم فوراً پِن کوڈ مانگے گی۔ نہ کال ہوگی، نہ میسج، نہ یوایس ایس ڈی' کوڈ کام کرے گا۔ یوں آپ کی شناخت کانٹیکٹس، اور پیسہ سب محفوظ رہیں گے۔
آپ کی سم صرف ایک چھوٹی سی چپ نہیں، بلکہ آپ کی شناخت، معلومات اور مالی معاملات کا دروازہ ہے۔ اس دروازے پر تالہ نہ لگانا بے وقوفی ہے؟ فوری طور پر سم لاک
ایکٹیویٹ کریں اور اپنی حفاظت یقینی بنائیں۔
طریقہ درج ذیل ہے
سم لاک لگانے کا طریقہ ہر موبائل میں مختلف ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر فونز میں یہ آپشن "Privacy & Security" یا "Mobile Networks" کی سیٹنگز میں موجود ہوتا ہے۔ بعض موبائلز میں یہ آپشن "Fingerprints, Face Data & Screen Locks" کے تحت بھی آتا ہے۔ سم لاک لگانے کے لیے آپ اپنے موبائل کی Settings میں جائیں اور سرچ بار میں "SIM Lock" یا "Lock SIM card" لکھیں، تو یہ آپشن فوراً سامنے آ جائے گا۔ اس کے بعد آپ اپنی سم کو PIN کوڈ کے ذریعے لاک کر سکتے ہیں تاکہ کوئی دوسرا آپ کی سم استعمال نہ کر سکے۔ یہ ایک آسان لیکن مؤثر سیکیورٹی فیچر ہے جس سے آپ اپنی سم کو غیر ضروری استعمال سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
اگر سم لاک نہیں لگایا، تو جان لیں خطرہ مول لیا
📅 August 3, 2025
